اویس سلطان طویل عرصے سے نفسیاتی مسائل کا شکار تھاخودکشی شدید ذہنی دباؤ کے نتیجے میں کی ،انکوائری رپورٹ میں انکشاف

لاہور ( ویب ڈیسک) – یونیورسٹی آف لاہور میں سٹوڈنٹ محمد اویس سلطان کی خود کشی کے واقعہ پر انکوائری رپورٹ سامنے آگئی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ اویس سلطان طویل عرصے سے نفسیاتی مسائل کا شکار تھا، تاہم انہیں کسی قسم کی نفسیاتی مشاورت فراہم نہیں کی گئی۔ شدید ذہنی دباؤکے نتیجہ میں اقدام خود کشی اٹھایا اور بظاہر یہ قدم ان کی طرف سے سوچا سمجھا لگتا ہے۔
تفصیل کے مطابق پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے دی یونیورسٹی آف لاہور میں سٹوڈنٹ اویس سلطان کی طرف سے چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کرنے پر4 رکنی غیر جانبدار، شفاف اور خود مختار انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کے کنوینئر وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر عاقف انور چودھری تھے۔ ڈائریکٹر پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر محمد آصف منیر انکوائری کمیٹی کے سیکرٹری و ممبر جبکہ وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس پروفیسر ڈاکٹر زیب النساء اور ریکٹر یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر آصف رضا بطور ممبر کمیٹی کا حصہ تھے۔ کمیٹی نے انکوائری کے لیے دی یونیورسٹی آف لاہور اور مرحوم اویس سلطان کے آبائی گاؤں کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے یونیورسٹی ریکٹر، رجسٹرار، ڈینز، فیکلٹی ممبران اور سیکیورٹی حکام سے ملاقاتیں کیں اور حقائق اکٹھے کئے۔ ان کے گاؤں میں عزیز و اقارب سے اویس سلطان سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ کمیٹی نے اپنی تحقیقی رپورٹ کے نتیجہ میں کہا کہ محمد اویس سلطان پانچویں سمسٹر کے طالب علم تھے اور ان کی تعلیمی کارکردگی اچھی تھی (CGPA 3.14)۔ ان کی ایک مضمون کے علاوہ باقی تمام مضامین میں حاضری مقررہ معیار سے زیادہ تھی، تاہم اس مضمون میں حاضری کی کمی پوری کرنے کے لیے سمسٹر میں ابھی کافی کلاسز باقی تھیں۔ اس کمی کی وجہ صبح سویرے ہونے والی کلاسز میں دیر سے پہنچنے کی عادت ہو سکتی ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 75فیصد حاضری پاکستان کی بہت سی جامعات (بشمول یونیورسٹی آف لاہور) کی سمسٹر پالیسی اور ملکی تعلیمی و تسلیمی اداروں کے مطابق لازمی شرط ہے۔
واقعے کے بعد یونیورسٹی نے فوری طور پر زخمی طالب علم کو اپنے ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی اور بعد ازاں خصوصی علاج کے لیے لاہور جنرل ہسپتال منتقل کیا، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ اسی مقام پر ہونے والے انٹرنیشنل فوڈ فیسٹیول سے متعلق تقریبات کو فوراً معطل کر دیا جاتا تاکہ صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر عزت اور احترام کا مظاہرہ کیا جاتا۔
کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا کہ دی یونیورسٹی آف لاہور کو سٹوڈنٹ کونسلنگ ایکو سسٹم قائم کرنا چاہیے۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف پنجاب (PHEC) کو بھی چاہیے کہ ایک ڈائریکٹو جاری کرے جس کے تحت تمام یونیورسٹیز کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے کیمپسز میں سائیکالوجیکل کونسلنگ سینٹرز قائم کریں۔
تمام یونیورسٹیز میں مینٹل ہیلتھ فرسٹ ایڈاینڈ فیکلٹی سٹاف کیپسٹی بلڈنگ کی جانی چاہیے، جو پروفیشنل ڈویلپمنٹ پروگرامز کا حصہ ہو ۔ یونیورسٹیز کو مینٹل ہیلتھ اور خود کشی جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے ریگولر بنیادوں پر سیمینار اور آگاہی مہم چلانی چاہیی۔ کمیٹی نے تفصیلی رپورٹ جمع کروا دی اور امید کرتی کہ اس کی سفارشات اور نتائج کے بعد مستقبل میں ا س طرح کے ناخوشگوار واقعات سے دباؤ میں مدد ملے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں