اسلام آباد(ڈیلی پوائنٹ) بلوچ طلباء کا جبری گمشدگیوں کے حوالے سے احتجاج پر گذشتہ روز اسلام آباد کی پولیس نے احتجاج کرنے والوں پر زبردست لاٹھی چارج کیا ہے۔ پرامن مظاہرین پر پولیس کے لاٹھی چارج پر حکومت خاموش تماشائی بن گئی۔
بلوچ طلباء نے پولیس کے اس ناروا سلوک پر آج اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو طلب کیا جس پر جسٹس عامر فاروق نے آئی جی اسلام آباد سے پوچھا کہ آپ نے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے؟ جس پر آئی جی نے جواب دیا کہ 20 روز سے یہ احتجاج کر رہے ہیں کچھ نہیں کہا کسی کو مگر کل 5 ،6 گاڑیوں میں مزید لوگ آئے جو مسلح تھے۔ 6 گھنٹوں تک ان کو کچھ نہیں کہا مگر جب انھوں نے ریڈزون کراس کیا تو ہمیں مجبور ہو کہ کاروائی کرنی پڑی۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا احتجاج کا حق سب کو ہے کیا ان بلوچ طلباء نے کوئی دہشتگردی گی ہے؟آئی جی نے بتایا کہ حراست میں کوئی بچہ یاخاتون نہیں ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ مارچ کے شرکاء کی گرفتاری کے کیس میں آئی جی اسلام آباد پیش
چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ آپ نے کچھ لوگ گرفتار کیے ہیں؟ کیوں؟
آئی جی پولیس نے کہا 25 دن سے بلوچ احتجاج کر رہے ہیں، انہیں کچھ کہا نہیں گیا، کل آٹھ دس گاڑیوں میں مزید شرکاء آئے جن میں…— Maryam Nawaz Khan (@maryamnawazkhan) December 21, 2023
عدالت نے مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی ہے۔

