(ڈیلی پوائنٹ)سعودی عرب کے علاقے الاحسا میں وزارت تجارت کے نیشنل پروگرام ٹو کامبیٹ کمرشل کنسلمنٹ نے سعودی خاتون کے نام پر گاڑیوں کے ورکشاپ کو بند کردیا جسے ایک بنگلہ دیشی چلا رہا تھا۔سبق ویب کے مطابق نیشنل پروگرام کے نمائندوں کا کہنا ہے اطلاع ملی تھی علاقے میں ایک ورکشاپ غیرملکی چلا رہا ہے۔ سعودی خاتون اور اس کے قانونی معاون نے اسے اپنا تجارتی رجسٹریشن دیا ہے۔ درست معلومات حاصل ہونے پر ورکشاپ بند کرادیا گیا۔
مشرقی ریجن کی عدالت نے سعودی خاتون، اس کے قانونی نمائندے اور بنگلہ دیشی کے حوالے سے حتمی فیصلہ جاری کیا۔ بنگلہ دیشی تجارتی رجسٹریشن کا فائدہ اٹھا رہا تھا۔ اسے کارکنوں کی نگرانی کرنے کی اجازت تھی، غیر قانونی سرگرمی سے حاصل ہونے والی ورکشاپ کی آمدنی مملکت سے باہر منتقل کرنے کی گئی۔
في جريمة تستر تجاري.. لمواطنة ووكيلها الشرعي لتمكينهما مقيماً من استخدام سجلها التجاري لمزاولة نشاط "صيانة السيارات" لحسابه الخاص..
باشرنا تنفيذ الحكم القضائي بإغلاق وتصفية النشاط، وشطب السجل التجاري، وتضمن الحكم غرامة مالية، وإبعاد المتستر عليه عن المملكة بعد تنفيذ العقوبة.… pic.twitter.com/iniDxCn429
— البرنامج الوطني لمكافحة التستر التجاري (@saudicanp) May 12, 2024
عدالتی فیصلے میں تجارتی پردہ پوشی کے حوالے سے عائد جرمانوں کے علاوہ تجارتی رجسٹریشن کی منسوخی، بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے نیز خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے، غیر ملکی کو سزا اور جرمانے کے بعد مملکت سے بے دخلی شامل ہے۔
واضح رہے مملکت میں جو غیرملکی، سعودی کے نام پر کاروبار کرتا ہے یا سعودی اپنے نام سے کسی غیرملکی کو کاروبار کی اجازت دیتا ہے ثبوت فراہم ہونے پر 5 سال قید اور 50 لاکھ ریال جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔
تجارتی رجسٹریشن منسوخ، کاروبار بند، بینک اکاؤنٹ منجمد اور سزا کے بعد غیرملکی کو بے دخل اور بلیک لسٹ کیا جاتا ہے۔

