پشاور( ڈیلی پوائنٹ )خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے صحافی خلیل جبران کو قتل کردیا۔
ڈی پی او سلیم عباس کے مطابق خیبر میں لنڈی کوتل کے علاقہ مزرینہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے صحافی اور لنڈی کوتل پریس کلب کے سابق صدر محمد جبران کو قتل کردیا۔
پولیس کے مطابق خلیل جبران ایڈوکیٹ سجاد ایڈووکیٹ کے ہمراہ گاڑی میں گھر جارہے تھے کہ اُن کی کار گھر جاتے ہوئے کچھ فاصلے پر خراب ہوئی اور اس دوران کار میں سوار ملزمان نے خلیل جبران کو گاڑی سے اتار کر گولیاں ماریں اور فرار ہوگئے۔
فائرنگ کے نتیجے میں خلیل جبران موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ کار میں موجود سجاد ایڈووکیٹ فائرنگ سے زخمی ہوگئے، جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق خلیل جبران کو دہشت گردوں کی جانب سے دھمکیاں ملی تھیں جبکہ مقتول صحافی خلیل جبران مقامی ٹی وی چینل سے وابستہ تھے۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا سردار علی امین گنڈاپور نے صحافی خلیل جبران کے قتل کی مذمت کی اور اس کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو فائرنگ میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کے لئے ضروری کاروائی عمل میں لانے کی ہدایت کردی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مقتول صحافی کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر کی دعا بھی کی۔
انہوں نے متاثرہ اہل خانہ کو یقین دہانی کرائی کہ خلیل جبران کے قاتل قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔
ادھر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی صحافی خلیل جبران کے قتل کی مذمت کی ہے اور لواحقین سے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب خیبر میں صحافی جبران خلیل کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، نماز جنازہ میں سیاسی و سماجی رہنما، صحافیوں اور دیگرافراد نے شرکت کی۔
نماز جنازہ سے قبل صحافی، سیاسی و سماجی شخصیات نے لاش کے ہمراہ پاک افغان شاہراہ پر احتجاج بھی کیا
مظاہرین مطالبہ کیا کہ صحافی جبران خلیل کے قاتلوں کو فوری گرفتار اور شہید پیکج دیا جائے، جبران خلیل کے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے۔
دوسری جانب خیبر پختون خوا کے ضلع خیبر میں صحافی جبران خلیل کے قتل کا مقدمہ تھانہ لنڈی کوتل میں درج کر لیا گیا۔
اس حوالے سے ڈی پی او کا کہنا ہے کہ مقدمہ زخمی وکیل سجاد کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا ہے، جس میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ڈی پی او نے بتایا کہ حملے میں سجاد ایڈووکیٹ زخمی ہوئے تھے، جو واقعے کے عینی شاہد بھی ہیں۔
واضح رہے کہ صحافی جبران خلیل کو گزشتہ روز گھر کے قریب فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔

